ابنا: عراق کی وزارتِ داخلہ کے مطابق اتوار کو بغداد کے قریب واقع دو جیلوں پر القاعدہ دہشت گردوں کےحملے اور اس کے نتیجے میں 500 سے زائد قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعات میں جیل محافظین ملوث تھے۔ وزارتِ داخلہ کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاں حملہ آوروں نے باہر سے جیلوں پر مارٹر گولے برسائے، وہیں جیل کے اندر قیدیوں نے بلوہ کر دیا۔اس سے پہلے القاعدہ نے عراق کے دارالحکومت بغداد کے قریب واقع دو جیلوں پر مسلح افراد کے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
واضح رہے کہ عراقی پارلیمان کے سینیئر رکن حکیم الزمیلی کا کہنا تھا کہ صرف ابوغریب جیل سے 500 قیدی فرار ہوئے اور ان میں سے بیشتر القاعدہ کے اہم ارکان تھے جنہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ القاعدہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم نے ان حملوں کی تیاری میں کئی ماہ لگائے اور فرار ہونے والوں میں تقریباً پانچ سو افراد تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسند تھے۔جیلوں پر کنٹرول کی اس لڑائی میں کم از کم بیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
.......
/169